×

چوں،چوں،چوں

By SHAHID TSR in Stories » Short
Updated 18:16 IST Mar 14, 2021

Views » 645 | 2 min read

            علی بیٹا! جلدی اٹھو، اسکول کے لئے دیر ہو رہی ہے۔امی نے کمرے میں آتے ہی علی کع آواز دی، لیکن وہ علی ہی کیا جو پہلی آواز پر جاگ جائے۔اس نے کروٹ بدلی اور دوبارہ سوگیا۔امی نے کچن میں جانے سے پہلے علی کو ایک بار پھر جگایا اور اسے آنکھیں ملتا چھوڑکر چلی گئیں۔علی امی کے جاتے ہی پھر سے سو گیا۔تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک چڑیا علی کے کمرے کی کھڑکی میں آبیٹھی۔وہ چوں،چوں،چوں کئے جارہی تھی۔علی کو بہت غصہ آیا اس نے اپنا تکیہ اُٹھا کر کھڑکی کی جانب اچھال دیا۔چڑیا نے اپنی طرف کسی چیز کو آتے دیکھا تو فوراً اُڑگئی۔ جس وقت امی کمرے میں آئیں، علی جمائیاں لے رہا تھا۔انہوں نے جلدی سے اسے باتھ روم بھیجا۔اسکول کے لئے تیار کیا۔دیر پہلے ہی ہو چکی تھی اس لئے وہ ناشتا کئے بغیر اسکول چلاگیا۔

           علی کا موڈ آف تھا اور کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا۔بریک سے پہلے اردو کا پیریڈتھا۔ٹیچر اسماسب کی فیورٹ ٹیچر تھیں۔انہوں نے دیکھا علی اداس بیٹھا ہے، تو وہ اس کے پاس آئیں اور اداسی کی وجہ پوچھی۔

           علی نے بتایا کہ اسکی نیند پوری نہیں ہوئی اور آج اس نے ناشتا بھی نہیں کیا۔یہ بھی بتایا کہ کس طرح ننھی چڑیا نے اسے سونے نہیں دیا تھا۔ٹیچر نے اس کی شکایت سنی، تو مسکراکر بولیں:

            اسے جگانے آئی تو علی نے دل ہی دل میں مسکراکر اُسے خوش آمدید کہا۔آج سے میں وقت کی پابندیکروں گا اور کبھی دیر تک نہیں سوؤں گا، اس نے چاول کے دانے کھڑکی میں رکھتے ہوئے کہا۔ ننھی چڑیا نے دانے کھائے اور خوشی خوشی اڑگئی۔

0 likes Share this story: 0 comments

Comments

Login or Signup to post comments.

Sign up for our Newsletter

Follow Us